Home Blog What should Retailers do with Stocked SIMs?

What should Retailers do with Stocked SIMs?

SHARE

What should Retailers do with Stocked SIMs?

Pakistan Telecommunication Authority has implemented new system for sale and activation of mobile SIMs. It says Mobile Operators to provide necessary facilities to their customers for the purchase of SIMs through company owned service centers and franchises only.

This initiative was taken to ban the use of unauthorized and illegal SIMs. But this decision has become the biggest nightmare of all retailers. We all know that this decision will affect the lives of 1000s of retailers, the future of retailers have been placed in darkness.

The government hasn’t shown any leverage or incentive for them as well as they have no business and exit policy, especially for the SIM stock they have with them.

[blockquote cite=”Vice President All Karachi Tajir Ittehad, Jameel Paracha “] Retailers have millions of SIMS in stock, which the cellular companies have refused to recall.
It will be a financial murder of the small traders as the losses incurred by them as a result of this ban run would never let them make both ends meet.
[/blockquote]

Retailers are still keeping their finger crossed for any direction for the SIMs they have in stock.
This letter is written by a retailer

[blockquote cite=””] اسلام علیکم۔

أپ سے گزارش عرض ھے اس ای میل کو ایک بار ضرور پڑھیے گا۔ کیونکہ یہ 4 لاکھ خاندانوں کی ذندگی اور موت کا مسعلہ ھے۔ جیسا کہ اپ جانتے ھیں رحمان ملک صاحب نےموبائل کنیکشن کی فروخت پر پابندی لگادی ھے جس سے 4 لاکہ لوگوں کا اور 4 لاکھ خاندانوں کا زریع معاش وابستہ تھا۔

ہر پیشہ میں اچھے برے لوگ ھے اس پیشہ میں بھی تھے مگر چند سو لوگوں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں سے انکا کاروبار چھین لیا جاے یہ کہاں کا انصاف ھے ؟ سرکاری ملازمین کرپشن رشوت ستانی کرتے ہیں تو کیا وہ سرکاری ادارہ بند کردینا چاہیے؟

موبایل سمز غلط ناموں پر کیسے ایکٹیو کی جاتی ہیں۔ موبائل کمپنی کنیکشن سیلز کا ٹارگٹ دیتی ہیں ہر ماہ فرنچایز کو 3 سے 4 ہزار کنیکشن ۔ اور دھمکاتی بھی ھیں کہ اگر ٹارگٹ پورا نہ کیا تو کمیشن نہ ملے گا۔لیگل کرو یا ال لیگل سیلز لاو۔ فرنچایز کے پاس عوام اور اپنے تمام کسٹمرز کے شناختی کارڈ ہوتے ہیں۔ سمز ایکٹیو کرنے کے لیے پوچھے جانے والے خفیہ سوال انکے جواب صرف کمپنی اور کمپنی کے ملازمین کو پتہ ھوتے ہیں سسٹم کی کمزوریاں بھی۔

کچھ موبائل شاپس کمپنی ملازمین کی یا انکی پارٹنر شپ میں ہوتی ھیں جہاں سے یہ ایکٹیو سمز فروخت کی جاتی ہیں ۔فرنچایز سے اس لیے فروخت نہیں کرتے کہ پی ٹی اے کا ڈر ہوتا ہے۔ تو قربانی کا بکرا اور بدنامی کا بکرا موبایل شاپ بن جاتی ہے دولت مند کرپشن کرکے اپنے تعلقات اور پیسہ کی وجہ سے بچ جاتا ہے۔ اور پھنستا غریب دکاندار اور کمپنی ملازم ھے جو اپنی نوکری یا دکان بچانے کے لیے کمپنیز کی بلیک میلنگ کا شکار ہوجاتا ہے۔

اب بھی یہ ہوا کہ گورنمیٹ اور پی ٹی اے نے کمپنی اور فرنچایز کو تحفظ فراہم کردیا۔اور 4 لاکھ دکانداروں کو بےروزگارکردیا۔موبیل شاپس پر رکھا کروڑوں روپے کی سمز نہ کمپنی واپس لینے کو تیار ہے نہ بیچنہ دینے کو۔ رحمان ملک صاحب دکانداروں کا مال کمپنی کو واپس لینے کے لیے بھی کوئی حکم جاری فرمایں کٰہ بےروزگار کرنےکا حکم تو بہت جلدی جاری کردیا تھا۔ جو سم موبائل شاپ سے 70 روپے کی مل جاتی تھی اب وہ 500 اور اس سے زیادہ کی فرنچائز سے مل رہی ہے جبکہ کمپنی سے وہ سم 60 روپے کی فرنچائز کو ملتی ہے۔کہیں اس پالیسی کا مقصد صرف کپمنی اور فرنچایز کو فایدہ اور عوام کو لوٹنا تو نہیں ؟

زرا سوچئے جس ملک کا قانون صرف طاقتور اور پیسے والو کو تحفظ فراہم کرتا اور کمزوروں کےفورا خلاف حرکت میں اجاتا ہو۔وہاں کل بھی اج بھی اور أئندھ بھی طاقتور لوگ ان ضمیر فروش فرنچایز اور کمپنی ملازمین سے بنا نام کی سمز حاصل کرتے رہیں گے۔ اور کچھ زہین لوگ کبھی موبئل شاپس بند کرنے کے حکم کبھی عوام کو بند کرنے کے حکم جاری کرتے رہیں گے۔

ھمارے خیال سے موبئل فون پولیس کے لیے مخبر کا کام کرتا ہے۔جسکہ زریع ان کی أپس کی بات چیت ان کی پلاننگ پتہ چلتی ھے۔ ان کو پکڑنے کے لیے وہ طریقہ اپنائے جائیں جو ساری دنیا میں رائج ہیں۔ سم لوکیٹر،موبائیل لوکیٹر۔ اگر تخریب کار موبائل کی جگہ انٹرنیٹ سروسس سے کالنگ کریں تو انکا پکڑنا اور مشکل ہوگا۔ کہ غیرملکی ویب سئٹس انکو معلومات شائد ہی فراھم کریں۔ موبائل سگنلز بند کرنے سے فی الحال تو فایدہ ہو رہا ھے مگر تخریب کار وائرلیس واکی ٹاکی یا دوسرے ٹیکنالوجی استعمال کرنا شروع کریں گے، بم بنانے کے طریقے انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔بم بنانے کا سامان بھی دکانوں پر دستیاب ہے غیرقانونی اسلحہ بھی بااسانی دستیاب ہے مگر ساری توجہ موبائل سمز پر مرکوز۔

کیونکہ اسلحہ کہ تاجروں اور موت کے سوداگروں کے حمایتی لوگ حکومتیں بنا اور گرا سکتے ہیں۔ رشوت اور سفارش پر بننے والے سرکاری ملازم میرٹ پر بننے والے تخریب کار کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟
[/blockquote]

We do understand that government is about to launch a new 3G technology and these all steps are neceserry for the future. But ignoring this letter would be injustice with retailers, so we published it. We think that government must give it second thoughts for the sake of thousands of families, which will suffer from it directly. Terrorism and militancy demands a counter measures better than this one.

Phone World believes that Regulation is necessary and it had to happen one day, but justice should be done regarding refunds and other concerns of retailers.

Lets hope for the Best of all!